ابنا: کوئٹہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق کل کے واقعہ کے خلاف آج کوئٹہ میں کاروباری مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے، احتجاجی مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے کانسی روڈ اور علمدار روڈ کو بند کر دیا ہے جبکہ سیاسی اور مذھبی جماعتوں کی اپیل پریوم سوگ بھی منایا جا رہا ہے۔مجلس وحدت مسلمیں بلوچستان کے سیکریٹری علامہ مقصود علی ڈومکی نے ریڈیو تہران سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تسلسل کے ساتھ شیعہ مسلمانوں کے قتل عام سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حکومت دھشتگردوں کے خلاف کریک ڈاون کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت،خفیہ ادارے اورسکیورٹی فورسز روز اول سے دھشتگردوں کے خلاف کاروائی کرتیں تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ اگر ملت تشیع کا قتل عام روکنے کیلئے حکومت وقت نے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو حکومت کے خلاف بھر پور احتجاج کیا جائيگا۔واضح رہے کہ کل افطاری کے موقع پراستعماری طاقتوں کے آلہ کار ایجنٹوں نے مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کےامریکی اور صیہونی سازش پر عمل کرتے ہوئے کوئٹہ کی مسجد روڈ پر روزے کی حالت میں 4 شیعہ مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے شھید کر دیاجبکہ رات کے وقت خدائیداد روڈ پر فائرنگ کے ایک اور واقعہ میں 2افراد شہید اور 3زخمی ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
15 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 441277
پاکستان کے شہر کوئٹہ میں4 شیعہ مسلمانوں کی شہادت کے خلاف آج کوئٹہ میں عام ہڑتال ہے اور سوگ منایا جا رہا ہے۔